Home » اردو » اور اب روس دہشت گردوں کے نشانے پر

اور اب روس دہشت گردوں کے نشانے پر

راجہ عامر محمود بھٹی

پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ دہشت گردوں نے جہاں سی آئی ڈی کراچی کے نڈراور قابل ایس پی چوہدری اسلم کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا وہاں دہشت گردی کے ایک واقعہ میں خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ن کے رہنماءانجنیئر امیر مقام دہشت گردی کے خودکش حملے میں بال بال بچ گئے مگر ان کے چند ساتھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے پشاور کے ایک تبلیغی مرکز میں خودکش دھماکہ کیا اور سترہ جنوری کو راجن پور کے قریب ریلوے ٹریک پر بم دھماکہ کیا گیا ۔ دہشت گردی کے ان تمام واقعات کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حکومت پاکستان ایک طرف دہشت گردوں سے مذاکرات کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لا رہی ہے اور دوسری طرف دہشت گرد اپنی کارروائیوں کے ذریعے مسلسل معصوم اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان دہشت گردوں کا ٹارگٹ سکیورٹی اداروں کے اہم افسران اور سیاسی رہنماءبھی ہیں۔ اب قوم کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ یہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کااسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسلام بے گناہ اور معصوم انسانوں کی جان لینے سے سختی سے منع کرتا ہے۔ان دہشت گردوں کا ایک ہی مقصد ہے پاکستان کو غیر مستحکم اور غیر محفوظ بنایا جائے۔ دہشت گرد ایسا کرکے پاکستان دشمنوں کے آلہ کار ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے پاس اس بات کے واضع ثبوت موجود ہیں کہ انڈیا سمیت چند ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں سرگرم ہیں اور وہ مختلف دہشت گرد گروپوں کو اسلحے اور پیسے کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔ اب پاکستان کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر دیگر ممالک بھی دہشت گردوں کے نشانوں پر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والا ایک انتہاءپسند گروپ پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ ماضی میں بھی پاکستان میں کام کرنے والے چینیوں کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ۔
دوسری طرف چند روز قبل روس کے شہروولگوگریڈمیں ایک ریلوے اسٹیشن پر خودکش بم دھماکے میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ چونتیس زخمی ہوگئے۔ روسی حکام کے مطابق یہ خودکش حملہ ایک خاتون نے کیا۔ حملے کے بعد سوچی اولمپکس کے موقع پر سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں جس کا انعقاد چھ ہفتے بعد سوچی شہر میں ہوگا۔ وولگو گریڈ میں پولیس اہلکار نے مشتبہ خاتون کو ریلوے اسٹیشن کے داخلی راستے پر تلاشی کے لئے روکنے کی کوشش کی جس پر اس نے خودکو دھماکے سے اڑا دیا۔ روسی حکام کے مطابق اگر خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش نہ کی جاتی تو کہیں زیادہ جانی نقصان ہوسکتا تھا۔ روس کی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان ولادیمر مارکن کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائی کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ حکام کے مطابق دھماکے میں دس کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی۔ فیڈرل پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد تمام ٹرین اسٹیشنز اور ہوائی اڈوں پر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ یاد رہے کہ وولگو گریڈ شہر میں ہی اکتوبر میں ایک خاتون خودکش بمبار نے بس کو نشانہ بنایا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملے کے اگلے روز ایک اور خودکش حملے میں چودہ افراد ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوگئے۔ وولگو گریڈ شہر کے زیر زنسکی علاقے میں خودکش بمبار نے خود کو مسافروں سے بھری بس میں زوردار دھماکہ سے اڑا لیا۔ روسی سکیورٹی حکام کے مطابق بس میں خودکش دھماکہ ایک مرد نے کیا ہے کیونکہ دھماکہ کے بعد مرد کے کچھ اعضاءملے ہیں۔ دھماکہ کے لئے چار کلو گرام بارود استعمال کیا گیا۔ خودکش دھماکہ کے بعد لوگ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ بسوں میں سفر کرنے کی بجائے پیدل چلنے لگے۔ روس کے دوسرے بڑے شہر ینٹ پیٹرزبرگ میں پہلے ہی نئے سال کے موقع پر ہونے والے آتشبازی کی تقریبات کو منسوخ کردیا گیا ۔ روس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے مزید خودکش حملوں کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وولگوگریڈمیں کیے جانے والے حملوں میں مسلمان شدت پسند ملوث ہیں۔ ادھر پاکستان نے روس میں وولگو گارڈ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔
دہشت گردی کے مسئلے نے اب نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دہشت گردوں کے مختلف گروہ دنیا کے کونے کونے میں اپنی تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں کا نشانہ عموماً بے گناہ اور عام شہریوں کو بنایا جاتا ہے جن میں بچے بوڑھے اور عورتیں سبھی شامل ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب یا قانون بے گناہ اور معصوم انسانوں کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے کسی بھی قسم کی گھناﺅنی کارروائی سے باز نہیں آتے۔ نائن الیون کے بعد سے اب تک افغانستان، عراق، پاکستان اور شام کو بالخصوص دہشت گردی کے پے در پے واقعات کاسامنا کرنا پڑا ہے جبکہ شام، لبنان اور مصر بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پررہے ہیں۔ اسی طرح روس، چین اور برطانیہ سمیت دیگر کئی ممالک میں دہشت گردی کے اکا دکا واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دی ہیں جس کو اس جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً سو بلین ڈالر کے معاشی نقصان کے علاوہ چالیس ہزار سے زائد فوجی اور سویلین جانوں کی قربانی دینا پڑی ہے۔ اب تمام دنیا کو اس حقیقت کا ادراک ہوگیا ہے کہ دہشت گردی مقامی نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور دہشت گردوں کی جڑیں کسی ایک ملک تک نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں لہٰذا دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے جس میں پاکستان، امریکہ اور افغانستان سمیت دیگر اہم ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ اور مدد کرنی چاہئے۔ پاکستان دنیا کے اکثر ممالک کے ساتھ اس ضمن میں پہلے ہی تعاون کررہا ہے۔
اب تو پاکستان کی اکثر سیاسی و مذہبی جماعتیں اس حقیقت کو سمجھ چکی ہیں کہ چاہے دہشت گردوں کا تعلق کسی بھی مذہب یا ملک سے ہو وہ انسانیت کے دشمن ہیں اور اب پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شدید مذمت کررہی ہیں ۔ پاکستان جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل تعاون کر رہا ہے وہاں خود بھی اس بات کا خواہشمند ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک پاکستان کے ساتھ بھی اسی طرح کا تعاون جاری رکھیں۔اگرچہ امریکہ کی دوغلی پالیسیوں کے نتیجہ میں پاکستان کو سکیورٹی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے مثال کے طور پر جب پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آپشن آزمانے کی کوشش کرتا ہے تو ڈرون حملوں کے ذریعے طالبان کو نشانہ بنا کر مذاکرات کے آپشن کو ملیا میٹ کردیتا ہے جبکہ دوسری طرف جب پاکستان امریکہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد واقعات میں ملوث ملا فضل اللہ اور اس کے ساتھیوںپر بھی ڈرون حملہ کیا جائے یا پھر اُسے افغان سرزمین سے گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کیا جائے اور ملا فضل اللہ گروپ کے بارے میں اہم معلومات پاکستان سے شیئر کی جائیں مگر اس حوالے سے امریکہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ امریکہ صرف چند مخصوص دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بناتا ہے جن کو وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے مگر جو گروپ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف امریکی پالیسی یکسر مختلف ہے۔ امریکہ کا یہ دوہرا رویہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جبکہ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجہ میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ڈرون حملوںکی عالمی سطح پر ہمیشہ مذمت کی گئی ہے اور پاکستان امریکہ سے سیاسی و سفارتی محاذ پر مسلسل یہ مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں اور اگر امریکہ کے پاس دہشت گردوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات موجود ہیںوہ پاکستان سے شیئر کی جائیں تاکہ پاکستانی حکومت ان کے خلاف ایکشن لے سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*