Home » اردو » پاک ترک سکولز کے طلباءنے تعلیمی فتوحات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے

پاک ترک سکولز کے طلباءنے تعلیمی فتوحات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے


پہلی سے آٹھویں کلاس تک کے بچوں کومختلف موضوعات بارے 200 کتابیں پڑھنی ہوتی ہیں کیونکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ آج کا ریڈر کل کا لیڈر
سمر سکولز کے دوران طلباءکو امریکہ، برطانیہ اور ترکی کا دورہ کرایا جاتا ہے
ہماری تمام برانچز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے
پاکستانی والدین زیادہ دوائیں دینے والے ڈاکٹر کو پسندکرتے ہیں مگر ہم چھوٹے بچوں کو زیادہ ہوم ورک نہیں دیتے ہیں
پاک ترک سکولز کے طلباءاب تک قومی اور بین الاقوامی سطح پر 147 میڈلز جیت چکے ہیں
ہمارا نعرہ ہے کہ جو کچھ پیار سے پڑھایا جاتا ہے وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے
پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے چیئرمین اُنال توشر سے خصوصی انٹرویو

راجہ عامر محمود بھٹی
پاکستان میں مختلف طرح کے تعلیمی ادارے سرگرم ہیں۔ ان میں انگلش میڈیم سرکاری تعلیمی ادارے اور مدرسے سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں ہمیشہ یہ مسئلہ زیر بحث رہا ہے کہ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے تاکہ غریب اور امیر کے بچے ایک ہی طرح کے سکولوں میں تعلیم حاصل کرسکیں۔ ملک پر حکومت کرنے والی مختلف سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے لئے مختلف دعوے تو کرتے رہے ہیں مگر عملاً کچھ نہیں کیاگیا مگر 1995ءپاکستان میں پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے تحت ایسے نصاب کی تعلیم دینی شروع کی گئی جہاں جدید علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ ملک بھر میں قائم کچھ تعلیمی اداروں میں اگرچہ بچوں کو بہترین انداز میں تعلیم کی فراہمی کی جاتی ہے مگر ان اداروں میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی چنانچہ بچے ایک طرف ذہانت کامظاہرہ کرتے ہیں اور اعلیٰ پوزیشنیں حاصل کرتے ہیں مگر دوسری طرف انہیں اسلامی کلچر اور ملکی روایات سے دور رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ایسے اداروں کے فارغ التحصیل بچے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اخلاقی طور پر بہت پسماندہ ہوتے ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لئے پاکستان کے برادر ملک ترکی نے پاک ترک سکولز کی برانچز کھولنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 1995ءسے پاکستان میں پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کا نیٹ ورک قائم ہے جس میں ہر آنے والے سال میں بہتری لائی گئی۔پاک ترک تعلیمی اداروں نے قلیل مدت میں جتنا اعلیٰ معیار حاصل کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءنے بین الاقوامی سطح پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذہین قوم کے فرزند ہیں۔ بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے والوں نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ پاکستان کا روشن چہرہ ہیں۔ ملک میں ایک طرف ایک بھٹکا ہوا طبقہ اپنی ناسمجھی کی وجہ سے پاکستان کا تشخص خراب کررہا ہے جبکہ دوسری طرف ترک سکولوں میں پڑھنے والے بچے اور بچیاں ننھے فرشتوں اور پریوں کی طرح پاکستان کے چہرے کو بدنما کرنے والے دھبے صاف کرنے میںہمہ تن مصروف ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور ترکی دو ملک اور ایک قوم ہیں۔ ترکوں کے لئے پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر میں یکساں احترام پایا جاتا ہے۔ کسی دوسرے ملک کے لئے محبت کی ایسی مثال کم ہی دیکھنی کو ملتی ہے۔ ترکی کے نام پر پاکستانی والدین اور طلباءنے اس قدر اعتماد کا اظہار کیاکہ آج پاک ترک تعلیمی اداروں کی زنجیر پاکستان کے 8 بڑے شہروں میں نمائندگی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پاک ترک تعلیمی ادارے کا دعویٰ سچ ہے کہ ”آج کا ریڈر کل کا لیڈر ہے“۔ اس کا عملی اظہار تو شاید کچھ عرصے بعد ہو لیکن مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بچوں نے بیرون ملک میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور جس اعتماد سے مقابلے کے میدان میں اترے ہیں وہ بتا رہا ہے کہ ان اداروں کے فارغ التحصیل طلباءاپنے ملک اور مادرِ وطن کو قوموں کی برادری میں باعزت مقام دلوائیں گے۔ پاکستان اور ترکی دو برادر قوموں کی باہمی محبت کا اظہار دونوں ملکوں کے پرچم کے شانہ بشانہ لہرائے جانے سے ہوتا ہے۔ پاک ترک تعلیمی اداروں کی شاخیں اسلام آباد، پشاور، لاہور، خیرپور، حیدر آباد، کوئٹہ اور کراچی میں قائم ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ پاک ترک تعلیمی اداروں میں تعلیم کے بہترین معیار کو مسلسل بلندی کی طرف گامزن رکھنے کے لئے مصروف عمل ہیں۔ گزشتہ دنوں پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے چیئرمین اُنال توشر (Unal Tosur)سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کے دوران اُن سے ادارے سے متعلقہ مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی جس کی تفصیل قارئین کی نذرکی جاتی ہے۔
سوال: ملک بھر میں پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کی کتنی برانچز ہیں اور ان میں کتنے طلباءو طالبات زیر تعلیم ہیں؟
جواب: اسلام آباد، لاہور، پشاور، ملتان، کوئٹہ، میر پور، جام شورو، حیدر آباد، کراچی سمیت میں پاک سکولز اینڈ کالجز کی 22 برانچز کام کررہی ہیں جن میں سات ہزار پانچ سو سے زائد طلباءو طالبات جدید انداز میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ 754 اساتذہ ملک بھر کے مذکورہ آٹھ شہروں میں پاک ترک سکولز اینڈ کالجز میں بچوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرا رہے ہیں جبکہ 180 اساتذہ کا تعلق ترکی سے جبکہ باقی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کی تمام برانچز میں تعلیمی معیار اور نصاب یکساں ہے جبکہ طلبائ، اساتذہ اور والدین کے مابین مستقل رابطے کو قائم کرکے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے کیونکہ اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک پہلو بھی نظر انداز کردیا جائے تو بچوں کی تعلیم و تربیت میں کمی رہ جاتی ہے۔ پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے تمام اساتذہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ تربیت یافتہ بھی ہیں چنانچہ

بچوں کو تعلیم دیتے وقت تمام پہلوﺅں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
سوال: ایک کلاس میں کتنے بچوں کو رکھا جاتا ہے اور کیا ادارے کی تمام برانچز میں معیار تعلیم ایک جیسا ہے؟
جواب: اگرچہ پاکستانی اُس ڈاکٹر کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو مریض کو زیادہ دوائیں دیتا ہے مگر پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے اساتذہ زیادہ دوائیں یعنی زیادہ ہوم ورک نہیں دیتے ہیں بلکہ کوشش کی جاتی ہے کہ بچوں کو سکول ٹائم میں بہتر انداز میں پڑھایا جا ئے۔ سکول کے اساتذہ کا مقصد بچوںکو بہترین انداز میں تعلیم دینا ہے جبکہ ان کی عمر اور کلاس کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ معیاری تعلیم دینے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ بچے کو ضرورت سے زیادہ ہوم ورک دیا جائے۔ پاک ترک سکولز اینڈ کالجز میں ماڈرن لیبز ، ٹیکنالوجیکل میٹریل، بہترین اساتذہ اور مطلوبہ ماحول فراہم کیا جاتا ہے جس سے بچوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا موقع ملتا ہے جبکہ ایک کلاس میں اٹھارہ سے بیس بچوں کو رکھا جاتا ہے تاکہ ٹیچر کو پڑھانے اور بچوں کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کی ایک اہم بات 22 برانچز میں تعلیمی معیار تو ایک جیسا ہے مگر بعض شہروں کے طلباءو طالبات کے لئے فیسیں ایک جیسی نہیں ہیں کیونکہ اسلام آباد اور ملتان میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کی آمدن میں نمایاں فرق ہے۔ اس کے علاوہ سکول ایسے بچوں کو جو غریب مگر ذہین ہیں کو مفت تعلیم کی فراہمی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ چناچہ اس وقت تقریباً آٹھ سو طلباءو طالبات کو سکالرشپ کی بنیاد پر تعلیم کی فراہمی جاری ہے۔ ان بچوں کے تمام اخراجات سکول کی انتظامیہ خود (مختلف لوگوں کی طرف سے عطیہ کے ذریعے اکٹھی ہونے والی رقم سے) برداشت کرتی ہے جبکہ ضرورتمند طلباءکو سکول کے اندر قائم بورڈنگ (رہائش اور کھانے پینے) کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
سوال: آپ اپنے سکول کی کوئی ایسی خوبی بتانا چاہیں گے جو کسی دوسرے ادارے میں نہیں ہے؟
جواب: ایسی بہت ساری خوبیاں ہیں جو صرف ہمارے ادارے میں موجود ہیں مگر تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ایک خاص بات پاک ترک سکولز اینڈکالجز کی تمام برانچز میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد ہے اور یہ پابندی اساتذہ کے لئے بھی ہے چنانچہ یہ تعلیمی ادارے پاکستان میں اپنی نوعیت کے واحد ادارے ہیں جنہیں ”نوسموکنگ“ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹس کہا جاتا ہے۔ اس پابندی کا مقصد سگریٹ نوشی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے علاوہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ادارے میں کسی طرح کی بھی ایسی منفی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے جس کا چھوٹے بچوں پر منفی اثر پڑے۔ پاک ترک سکولز اینڈ کالجز ہر سال مختلف ایسے سیمینارز کا بھی انعقادکرتے ہیں جن کا براہ راست سے تعلق والدین سے ہوتا ہے چنانچہ والدین ایسے سیمینارز میں شرکت کرکے یہ جانتے ہیں کہ بچوں کی پڑھائی اور تربیت میں کیسے بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ان سیمینارز کے موضوعات غور و فکر کے بعد منتخب کیے جاتے ہیں۔
سوال: بچوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے کے لئے پاک ترک سکولز میں کوئی طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے؟
جواب: سکول میں ایک ”منفردمطالعاتی سکیم“ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پہلی جماعت کے طلباءسے لیکر آٹھویں جماعت تک طلباءکے لئے 200کتابوں کا مطالعہ لازمی ہوگا۔ اس کا مقصد بچوں کو پڑھائی کا عادی بنانا اور ان ان کی قابلیت اور صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ ان میں سے ایک سو کتابیںجونیئر سیکشن (1-5) کے لئے ہونگی جبکہ سو دیگر کتابیں چھٹی تا آٹھویں کے طلباءکے لئے ہونگی۔ کتابوں کا یہ ذخیرہ بچوں کے لئے بوجھ نہیں ہوگا۔ تمام کتابیں اتنی دلچسپ اور دیدہ زیب ہیں کہ بچوں کو اپنے مطالعے کے لئے خود راغب کریں گی۔ اس طرح بچوں کو ابتدائی عمر میں ہی مطالعے کی عادت اور شوق پیدا ہو جائے گا۔
پہلی سے پانچویں جماعت تک کے طالبعلم کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ایک سال میں 20 تک کتابیں پڑھے۔ اسی طرح چھٹی تا آٹھویں کے طلباءکو بھی ایک سو کتابیں پڑھنا ہونگی یعنی ان کو سال میں 33 کتابیں پڑھنی پڑیں گی۔ پانچ سال بعد ایسے بچوں کو سرٹیفکیٹس دیئے جائیں گے۔
200 کتابوں کے ذخیرے میں 70فیصد کتابیں انگریزی اور بقیہ 30 فیصد اردو زبان میں ہونگی۔200کتابیںکی پڑھائی کے متعلق معلومات لاگ بک پر ہر وقت دستیاب ہونگی۔ والدین بچوں کی صلاحیت گھر بیٹھے کمپیوٹر پر ایک بار کلک کرکے جانچ لیں گے۔ کتابوں کا وسیع پیمانے پر مطالعہ بچوں کو یقینی طور پر اپنے دوسرے ہم عصر بچوں پر واضح علمی اور معلوماتی برتری عطاءکریگا جبکہ مطالعہ کی عادت سے بچوں میں تخلیقی قوتیں بیدار کریگی۔
پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے پڑھنے والے تمام بچوں کے والدین کو ہر ماہ کارکردگی رپورٹ بھی بھیجی جاتی ہے تاکہ انہیں مسلسل اپنے بچوں کی تعلیمی قابلیت اور خامیوں کا پتہ چل سکے۔ اس سے نہ صرف اساتذہ بلکہ والدین کو بھی بچے کی پڑھائی میں بہتری لانے میں مدد ملتی ہے۔ ان کتابوں میں ورلڈ کلاسک فکشن، لٹریچر ، شاعری اور دیگر اہم موضوعات شامل ہیں۔ چنانچہ جب ایک بچہ آٹھویں جماعت تک دو سو کتابیں پڑھ لیتا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کا مطالعہ اور ذہنی وسعت اور سوچنے کی صلاحیت کس قدر وسیع ہوگی۔
سوال: کیا آپ کا ادارہ بچوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف مقابلوں میں شراکت کے مواقع فراہم کرتا ہے؟
جواب: پاک ترک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز کا ایک کارنامہ اپنے بچوں میں مقابلے کی لگن پیدا کرنا ہے۔ ادارہ اپنے طلباءکو قومی اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے تیار کرتا ہے۔ اس سے طلباءکو نہ صرف مقابلوں میں حصہ لینے کی ترغیب ملتی ہے بلکہ ان میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو آنے والے دنوں میں درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار کرلیتے ہیں۔ ان مقابلوں میں پراجیکٹس کی تیاری اور سائنس او لیمپیڈ شامل ہیں۔ مقابلوں میں ہمارے ادارے کے بچے اور بچیاں بھرپور انداز میں شرکت کررہے ہیں۔ پاک ترک تعلیمی اداروں نے اپنی کاوشوں سے پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو دنیا بھر میں عزت و افتخار سے لہرایا ہے۔ طلباءنے اپنی تعلیمی فتوحات کی وجہ سے پاکستان کا نام دنیا کے کئی ممالک میں روشن کرکے نئی روایات کو جنم دیا ہے۔
سوال: پاک ترک سکولز طلباءکے والدین سے کیسے رابطہ رکھتا ہے ؟
جواب: پاک ترکی تعلیمی اداروں نے 2013ءمیں ملک بھر میں ”پاک ترک اکیڈمی آف ٹیچنگ اینڈ لرننگ ایکسی لینس“ کے تحت والدین کے سیمینار منعقدہ کروائے تاکہ سکول اور گھر کے درمیان بہترین رابطے قائم رہیں۔ اس کا مقصد والدین کو سکول و کالجز کی کاوشوں، بچوں کو فراہم کردہ سہولیات اور بچوں کی اپنی سرگرمیوں سے آگاہ رکھنا تھا۔ یہ بہترین میکنزم ہے جس میں والدین کو بچوں کی پراگریس سے آگاہ رکھا جاتا ہے اور یوں ادارے اور گھر کا قریبی رابطہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔
سوال: پاک ترک سکولز چھوٹی کلاسز کے طلباءکےلئے کتابوں کی طباعت کا خود بھی انتظام کرتا ہے اور کیا طلباءکو سمر کیمپس کے دوران دوسرے ممالک میں جانے کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں؟
جواب: 2013-2014ءکے لئے چھوٹے بچوں کے لئے نئے ڈیزائن کے ساتھ کتابیں دوبارہ چھاپی گئیں ہیں۔ کلاس اول تا پنجم بچوں کو پڑھانے کے لئے ”گولڈن جنریشن گائیڈنس کتابچے“ بھی تیار کئے گئے۔ ان کتابوں کی تیاری ڈیزائننگ اور چھپائی ادارے کے اکیڈمک سپورٹ کے شعبہ جات نے کی۔ ادارے کی مقامی مطبوعات میں سے خاص اہمیت “Little Hearts Pre-school”سے متعلقہ مواد اور مطبوعات کی ہے جو بچوں کے مقامی ماحول کی مطابقت سے تیار کی گئی ہیں۔ 2013ءکے تعلیمی سال سے پری سکول بچوں کے نصاب کی تمام کتب کا مطالعہ سمارٹ بورڈ پر کمپیوٹر کی مدد سے کرایا جارہا ہے جو تمام کلاس رومز میں نصب ہیں۔ یوں 2013-14ءکا تعلیمی سال پاکستان میں پری سکول بچوں کے لئے بڑا انقلابی اور مبارک ثابت ہوا جس میں ایک ترقی پذیر ملک میں ترقی یافتہ ممالک جیسی تعلیمی سہولیات مہیا کی گئیں ہیں۔ اسی طرح سے 2013ءکا ”سمر سکول “ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ طلباءکو امریکہ اور ترکی کا دورہ کرایا گیا تاکہ وہ اپنی انگریزی اور ترکی زبانوں پر بہتر انداز میں عبور حاصل کرسکیں کیونکہ زبان سیکھنے کا سب سے اہم ترین ذریعہ گفتگو ہی ہوتی ہے۔ ایسے دوروں سے طلباءکو دوسری تہذیبوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ زبان میں روانی آتی ہے اور ان کو ایک اجنبی ثقافت کو قریب سے دیکھنے سمجھنے اور اپنی ثقافت سے موازنے کا موقع ملتا ہے۔ بچوں کو گرمیوں کی چھٹیوں میں امریکا، برطانیہ اورترکی میں جا کر سمر کیمپ میں شرکت کرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور بچے اپنی پسندکے ملک کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان بیرونی دوروں (سمر ٹرپ) کے ذریعے بچوں کو دوسرے ممالک کے کلچر کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور بچوں کو پتہ چلتا ہے کہ باقی دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔ پاک ترک تعلیمی ادارے یہ خدمت بھی بہت احسن طور پر سرانجام دے رہے ہیں۔ان سروس ٹیچر ڈویلپمنٹ پروگرام اور ٹیچر سرٹیفکیشن کا معیار بہت بلند ہے۔ پاک ترک تعلیمی اداروں میں یہ کورسز آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے

رگنائز کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاک ترک تعلیمی اداروں میں موجود ٹیچرز فیکلٹی مکمل طور پر آکسفورڈ سرٹیفائیڈ ہے۔
سوال: کیا پاک ترک سکولز میں طلباءکےلئے ہاسٹلز کی سہولت موجود ہے اور غریب طلباءکی کس طرح سے مدد کی جاتی ہے؟
جواب: ماحول بچوں کی ذہنی، جسمانی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بڑا فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ پاک ترک تعلیمی اداروں میں اس پہلو کو خاص طور پر سامنے رکھا گیا ہے۔ ترک تعلیمی اداروں کی عمارات عالی شان اور جاذب نظر ہیں۔ اسلام آباد کے H-8/1 میں گرلز مین کیمپس کی تعمیر کا آغاز فروری 2011ءمیں ہواجبکہ عمارت میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز اپریل 2013ءمیں ہوا۔ یہاں 40کلاس رومز، 6لیبارٹریاں اور مثالی سہولیات کے ساتھ ایک ہوسٹل بھی موجود ہے۔ اس ہوسٹل میں 80 طالبات کے رہنے کی گنجائش ہے۔ لاہور کے بوائز کیمپس ہوسٹل میں چھٹی سے لیکر بارہویں جماعت تک کے طلباءقیام کرتے ہیں۔ یہاں ستمبر 2012ءمیں عملی رہائش کا آغاز ہوا۔ 160 طلباءکی گنجائش والے ہوسٹل میں 50 سیٹیں غریب لیکن قابل اور ذہین بچوں کے لئے ہیں۔ ایسے بچوں سے جن کے والدین کم آمدنی رکھتے ہیںاُن سے کسی قسم کے چارجز وصول نہیں کیے جاتے اور ان کی رہائش بھی فری ہوتی ہے۔ ملتان کے علی چوک کی برانچ کو مکمل طور پر نئے ڈیزائن کے ساتھ آراستہ کیا گیا ہے۔ حیدر آباد سندھ میں پاک ترک تعلیمی ادارے کی نئی شاخ اسریٰ یونیورسٹی کیمپس میں کھولی گئی ہے۔ پاک ترک تعلیمی اداروں میں یہ ایک نیا اور خوبصورت اضافہ ہے۔
سوال: آپ کا ادارہ ایسے طلباءو طالبات کی رہنمائی کرتا ہے جو دوسرے ممالک میں تعلیم حاصل کرنا چاہئے ہیں؟
جواب: پاک ترک تعلیمی ادارے ایسے طلباءکو جو ترکی، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں کو مدد فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اپنی مرضی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت 150 سے زیادہ طلباءترکی، یو ایس اے، یو کے، کینیڈا، آسٹریلیا، چین، ہانگ کانگ اور جاپان میں اعلیٰ تعلیم مکمل کررہے ہیں جبکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی یا قومی مقابلوں میں حصہ لینا کوئی خواب دیکھنے کی بات نہیں بلکہ یہ یہاں کی روایت بن چکی ہے۔ پاک ترک سکولز کے بچے جس مقابلے میں بھی شرکت کرتے ہیں وہاں سے فتوحات سمیٹ کر لوٹتے ہیں۔ ہر سال دنیا پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو کسی نہ کسی ملک میں ان بچوں کے طفیل لہراتا دیکھتی ہے۔ پاک ترک سکولز کے طلباءہر سال دس تا پندرہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ایسے مقابلوں میں شرکت طلباءکے مستقبل کے لئے اٹھایا جانے والا پہلا قدم ثابت ہوتا ہے۔ اس سے بچوں میں حقیقی اندازمیں سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی ترقی سے آگاہی ملتی ہے اور ان کو دنیا دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ تمام چیزیں یقیناً عملی تجربے سے ملتی ہیں نہ کہ گھر بیٹھ کر مطالعہ کرنے سے!۔ پاکستان کے بہت کم تعلیمی ادارے طلباءکو اس طرح کی تعلیم و تربیت فراہم کرتے ہیں۔
سوال: کیا آپ کے ادارے میں سنٹرلائز ڈایگزایمز سسٹم کا نفاذ کیا گیا ہے؟
جواب: پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے تمام اداروں میں سنٹرلائزڈ ایگزامز سسٹم نافذ کیا گیا ہے چنانچہ ہر ٹرم میں جنرل اسسمنٹ سسٹم کے ذریعے طلباءو طالبات کی صلاحیتوں کو جانچا جاتا ہے۔ ہمارا ادارہ پاکستان بھر میں قائم اپنے سکولز اینڈ کالجز میں آٹومیشن سسٹم کو بھی رائج کیے ہوئے ہے جس کے تحت بچوں کے والدین گھر بیٹھے ہوئے نہ صرف رزلٹ اور بچے کی سکول میں حاضری کا ریکارڈ اور یہ بھی جان لیتے ہیں کہ اُن کے بچے نے کسی کتاب کے کتنے صفحے پڑھ لیے ہیں اور کتنا سلیبس باقی ہے۔ چھوٹی کلاسز میں پڑھنے والے بچوں کے لئے سکول کی طرف سے خصوص طور پر کتابیں تیار کی گئی ہیں۔ پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کو سمارٹ سکولز کہہ سکتے ہیں کیونکہ ادارے کی تمام برانچز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دی جا رہی ہے۔ بڑی کلاسز کے طلباءکے لئے اے لیول اور ایف ایس سی دونوں طریقوں سے تعلیم حاصل کرکے کی سہولت موجود ہے تاہم اس کا انحصار بچے اور اُس کے والدین پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سوال: پاک ترک سکولز کے طلباءاب تک عالمی سطح پر منعقد ہونے والے مقابلوں میں کتنے میڈلز یا دیگر اعلیٰ انعامات حاصل کرچکے ہیں؟
جواب:اگر ہم گزشتہ چند برس کی سرگرمیوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں پاک ترک سکولز کے طلباءدنیا کے ہر کونے میں چمکنے دمکتے نظر آئیں گے۔ پاک ترک سکول کے بچوں نے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں 147 میڈلز جیتے۔ ان میں سے 64 گولڈمیڈل، 29 چاندی کے میڈل اور 54 کانسی (برونز) کے میڈل تھے۔ کوئٹہ کے پاک ترک کیمپس کے ولید بشیر نے الماتے قازقستان میں 18 تا 21 اپریل 2013ءکو ہونے والے مقابلے میں سونے کا تمغہ اور 600 امریکی ڈالر کا انعام جیتا۔ مقابلے میں 20 ممالک کے طلباءایک سو پراجیکٹس کے ساتھ شامل تھے۔ اپریل 2013ءمیں ہی پاک ترک کلفٹن کیمپس کے منظر عباس نے جارجیا میں گولڈ میڈل اور اول انعام جیتا۔ جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں 25 تا 27 اپریل تک منعقدہ اس مقابلے میں 28 ممالک 20 پراجیکٹس کے ساتھ شامل تھے۔ جنوری 2013ءمیں نویں اِنٹل نیشنل سائنس اور انجینئرنگ مقابلوں میں ایک گرینڈ پرائز اور چار بیسٹ آف کیٹیگری ایوارڈ جیتے گئے۔ ترکی میں منعقدہ ”انٹرنیشنل ٹیچنگ نالج مقابلے“ میں پاک ترکی انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سہیل عزیز نے پہلی پوزیشن کے ساتھ گولڈ میڈل اور 2000 امریکی ڈالر کا انعام بھی جیتا۔ کوئٹہ کیمپس کے ایم عبیداللہ نے انٹرنیشنل کمپیوٹر پراجیکٹ اولیمپیڈ منعقدہ اشک آباد (ترکمانستان) میں ”پلانٹ آٹومیشن سسٹم کے مقابلے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ مقابلے میں 45 ممالک اور 150 پراجیکٹ“ حصہ لے رہے تھے۔ اپریل 2013ءمیں ہی آذربائیجان میں ”یوریشیا انٹرنیشنل انوائرمینٹل پراجیکٹ اولیمپیڈ“ میں 47 ممالک نے 123 پراجیکٹس کے ساتھ حصہ لیا مگر کامیابی پاکستان کے حصے میں سونے کے تمغے کی صورت میں آئی۔ مضمون نویسی میں پاکستان کے ”ینگسٹرز“ نے برطانیہ میں ہونے والے مقابلے میں اعلیٰ کارکردگی کامظاہرہ کیا اور شیلڈز، ٹرافیاں اور سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔
پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے طلباءو طالبات اب تک امریکا، برطانیہ، جرمنی، برازیل، انڈونیشیا، ترکمانستان، پولینڈ، افریقن ممالک اور ترکی سمیت دیگر ممالک میں منعقدہ ہونے والے مختلف عالمی مقابلوں میں شرکت کرچکے ہیں ۔ عالمی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف مقابلوں میں پاکستانی طلباءو طالبات اپنے ملک کا پرچم بلندکرتے ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں پاکستان کا قومی ترانہ گونجتا ہے۔ اس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کے حوالے سے قائم منفی تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملتی ہے اور دوسرے ممالک کو پاکستان کا مثبت پہلو یعنی تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنے کو ملتا ہے۔ عالمی سطح پر منعقدہونے والے مقابلوں میں حصہ لینے والے طلباءو طالبات کو ایئر ٹکٹ کے علاوہ تمام اخراجات ادارہ برداشت کرتا ہے جبکہ اگر کوئی غریب طالب علم عالمی مقابلوں میں شرکت کا اہل ٹھہرجاتا ہے تو اُس کو ایئر ٹکٹ کی فراہمی بھی ادارے کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی ادارے کے طلباءو طالبات سال بھر مختلف قومی دنوں کے موقع پر دیگر مقابلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں مثال کے طور پر 23مارچ کے موقع پر پینٹنگز کا مقابلہ یا قومی نغموں کا مقابلہ اور مضامین نویسی کے مقابلے سرفہرست ہیں۔ پاک ترک سکولز اینڈکالجز کو دنیا کے ممتاز تعلیمی اداروں کی طرف سے اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے جیسا کہ آکسفورڈ اور کیمرج کی طرف سے سرٹیفکیٹس اور ایوارڈز شامل ہیں۔ سکولز کے اساتذہ کو ٹیچنگ صلاحیتوں میں بہتری کےلئے وقتاً فوقتاً ٹریننگ پروگرامز کا بھی انعقادکیا جاتا ہے اور ہر سال برطانیہ سے ماسٹرز ٹرینرز پاکستان آ کر اساتذہ کو تعلیم دینے کے جدید طریقوں سے آگاہی دیتے ہیں۔ اسی طرح سبجیکٹ کوآرڈینیٹر مختلف سکولوں کا دورہ کرکے ٹیچرز کے لئے ٹریننگ پروگرامز کا انعقاد کرتے ہیں تاکہ اساتذہ کو اپنے مضامین میں بہتری لانے کے مواقع مل سکیں اور اساتذہ ایک دوسرے کے تجربے سے استفادہ کرسکیں۔
سوال: کیا آپ کے ادارے میں طلباءکو ترکش زبان سیکھنے کا موقع ملتا ہے؟
جواب: دنیا بھر میں تقریباً 350 ملین افراد ترکش زبان بولتے ہیں چنانچہ پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لئے ترکش زبان سکھانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ چھٹی سے دسویں جماعت تک کے طلباءو طالبات کو ترکش زبان بھی سکھائی جاتی ہے اگرچہ ترکش زبان سیکھنا طلباءو طالبات کےلئے لازمی قرار نہیں دیا گیا ہے مگر آج تک کسی بھی بچے نے ترکش زبان سیکھنے سے عدم دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی بچوں میں ترکش زبان سیکھنے کی لگن کس قدر ہے۔ آنے والے سالوں میں ترکش زبان پر عبور حاصل کرنے والے یہ طلباءو طالبات دونوں ملکوں کے مابین دوستانہ تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں پاک ترک سکولز اینڈ کالجز سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباءو طالبات دونوں ملکوں کے مابین دوستانہ تعلقات میں پُل کا کردار ادا کرینگے۔ ایسے طلباءو طالبات جنہیں زبان سیکھنے میں دقت پیش آ رہی ہو انہیں اضافی کلاسز کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ ایسے بچے ترکش لینگوئج کلب کے ممبر بن جاتے ہیں تاکہ انہیں ایک دوسرے سے ترکش زبان بولنے اور سمجھنے میں مدد مل سکے۔
سوال: کیا چھوٹے بچوں کو اُن کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص انداز میں تعلیم دی جاتی ہے ؟
جواب: بچوں کی تعلیمی غیر نصابی اور ذہنی نشوونما پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ طلباءکو ایسا ماحول فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ مکمل یکسوئی سے اپنی مرضی کے مطابق تعلیمی اور غیر نصابی ہر طرح کی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں۔ پاک ترک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز کا ایک منصوبہ بچوں کو سکول جانے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے لئے پری سکول سکیم ”لٹل ہرٹس “ کام کررہی ہے۔ لٹل ہرٹس میں معصوم بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ماحول اور تفریح طبع کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کو بچوں کی دلچسپی کا سامان فراہم کیا جاتا ہے جس سے بچے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ وہ سکول کو اپنے گھر کی طرح سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کو سکول میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ اساتذہ کی شفقت میسر آتی ہے تو ان میں سکول جانے کا شوق بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح وہ خوشی خوشی سکول جانے لگتے ہیں۔ پاک ترک سکولز کا بچوں کو سکول جانے کے لئے آمادہ کرنے کا یہ طریقہ بڑا خوبصورت اور قابل ستائش ہے۔ پاک ترک سکولز کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ”ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ پیار سے پڑھایا جاتا ہے وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے“۔
سوال:پاک ترک سکولز اینڈ کالجز کے طلباءسماجی سرگرمیوں میں کس حد تک حصہ لیتے ہیں؟
جواب:سکول کی انتظامیہ اساتذہ اور طلباءو طالبات اپنی سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریوں کا وقت ہو یا سیلاب کی تباہ کاریوں کا اس ادارے نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر متاثرین تک امدادی سامان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسی طرح 20سے 30ہزار لوگوں کو امداد کی فراہمی کی اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر نوے ہزار لوگوں کو سمارٹ پیکج کے تحت گوشت، چاول، چینی، گھی اور دوسرے بنیادی خوراک کے آئٹم کے بیگ فراہم کیے گئے۔
سوال: مستقبل قریب میں کن شہروں میں پاک ترک سکولز کی مزید برانچز کھولی جائیں گی؟
جواب: پاک ترک سکولز اینڈ کالجز مستقبل قریب میں فیصل آباد، گوجرانوالا، ایبٹ آباد، ڈی جی خان اور سکھر وغیرہ میں مزید برانچز اوپن کریگا جبکہ آئندہ چند سالوں میں لاہور میں ایک یونیورسٹی کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غورہے تاکہ بچوںکو پہلی کلاس سے یونیورسٹی تک ایک ہی ادارے کے تحت تعلیم کی فراہمی کی جاسکے۔

٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*