Home » اردو » مارچ آذربائیجانیوں کی نسل کشی کا دن31
مارچ آذربائیجانیوں کی نسل کشی کا دن31

مارچ آذربائیجانیوں کی نسل کشی کا دن31

راجہ عامر محمودبھٹی

1998ءمیں صدر آذربائیجان نے اپنے ایک حکم نامے کے ذریعے 31 مارچ کا دن آذربائیجانی قوم کی نسل کشی کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ یہ دن منانے کا مقصد گزشتہ صدی میں آذری عوام کے خلاف اٹھائے جانے والے واقعات کو آذربائیجان کی تاریخ کا حصہ بنانا ہے۔ بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، ظلم و استبداد اور آذریوں کی اپنے آبائی علاقوں سے جبراً انخلاءجیسے واقعات بیسویں صدی کی عالمی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ سب واقعات آرمینیائی قوم پرستی کی وجہ سے ہوئے جو ”عظیم تر آرمینیا“ کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے۔
12 اکتوبر 1813ءکے معاہدہ گلستان اور 10 فروری 1828ءکے معاہدہ تر کمانچی کے تحت جو ایران اور روس کے درمیان دو جنگوں کے نتیجے میں ہوئے نے آذربائیجان کی قوم کو تقسیم کردیا۔ پہلی جنگ 1804ءتا 1813ءلڑی گئی جبکہ دوسری 1826ءتا 1828ءتک جاری رہی۔ دونوں جنگوں میں روس ہی فاتح رہا۔ ان معاہدات کے نتیجے میں شمالی آذربائیجان پر روس نے قبضہ کرلیا جبکہ جنوبی آذربائیجان ایرانی سلطنت میں شامل کرلیا گیا جو تاحال ایران کے قبضے میں ہے۔ معاہدہ ترکمانچی کے فوراً بعد 21 مارچ 1828ءکو روسی زار نکولس اول کے حکم سے اریوان اور نخ چیوان خانتیوں کے علاقے میں آرمینین خود مختار علاقہ قائم کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس میں اریوان کا شہر بھی شامل تھا جہاں 7331آذربائیجانی اور 2369 آرمینیائی رہتے تھے۔ اسی معاہدے کی ایک ذیلی شق نمبر 15 کے تحت ایران سے بڑے پیمانے پر آرمینیوں کو لاکر آذربائیجان کے علاقوں اریوان، کاراباخ اور نخ چیوان کے آذری آبادی والے علاقوں میں بسایا گیا۔ انہی مہاجر یا آبادکاروں نے بعد میں ان علاقوں سے آذربائیجانی لوگوں کو اپنے گھروں سے بیدخل کردیا۔ اسی طرح کے قوانین او معاہدہ جات ترکی سے جنگوں کے نتیجے میں کئے گئے یہ جنگیں 1828-29ءاور 1877-78ءمیں ہوئیں۔ تاریخی اعدادو شمار کے مطابق 1829-30ءکی مدت میں ایران سے چالیس ہزار کے قریب اور ترکی سے 84600 آرمینیائی باشندوں کو لاکر آذربائیجان کے علاقوں نخ چیوان، کارا باخ، اریوان اور ملحقہ علاقوں میں بسایا گیا۔ اس مدت میں آذربائیجان کی قومیت کے حامل افراد کے سینکڑوں گاﺅں کو تباہ کردیا گیا اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں آذریوں کو شہید کردیا گیا۔ مقامی آذریوں کی جائیدادوں اور گھروں پر قبضہ کرکے مقامی لوگوں کو بے دخل کردیا گیا۔

انیسویں صدی کے نصف کے بعد آرمینیائی باشندوں نے اپنی ریاست ”وسیع تر آرمینیا“ کے خواب کی تکمیل کے لئے تنظیمیں بنانی شروع کردیں۔ وسیع تر آرمینیا کا پروگرام رکھنے والے ترکی، جارجیا اور آذربائیجان کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرکے آرمینیا کی ریاست کو استحکام بخشنا چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انیسویں صدی میں آرمینیا کی تشکیل اور حصول کے لئے قائم ہونے والی قابل ذکر تنظیمیں دیگر ممالک میں قائم ہوئیں۔ ان میں GNCHAG جنیوا میں DASHNAKTSYUTYUN طفلس میں اور یونین آف آرمینین پیٹریاٹس نیویارک میں تشکیل دی گئیں۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں اریوان میں آذریوں کی تعداد باکو اور گنجا کے بعد تیسرے نمبر پر تھی۔ روسی سلطنت کی 1897ءکی مردم شماری کے مطابق صوبہ اریوان میں آذریوں کی تعداد 313178 تھیں۔بیسویں صدی میں تبدیل شدہ صورتحال دراصل ان واقعات کا نتیجہ تھی جن میں آرمینی باشندوں پر مشتمل دہشت گرد تنظیموں نے آذریوں کی نسل کشی کرکے اور ان کو زبردستی اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کرکے توازن کو درہم برہم کیا۔
1905-1907ء: یہ دور جدید تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آرمینیائی جتھوں نے روسیوں سے دوستی کا زبردست فائدہ اٹھایا۔ آرمینیائیوں نے آذربائیجان کے طول و عرض میں ظلم کا بازار گرم کردیا۔ انہوں نے بہت بڑے پیمانے پر آذریوں کا قتل عام کیا۔ یہ کوئی فرقہ وارانہ تصادم یا مذہبی لڑائی نہیں تھی۔ آرمینی دہشت گردوں نے بڑے منظم طریقے سے بلاتفریق عورت، مرد، بچہ یا بوڑھا باکو، شوشہ، زنگی زور، اریوان، اردآباد، نخ چیوان، اچمیادزن، جوان شیر اور گازخ میں قتل عام کیا۔ صرف 1905-06ءکے دوران اریوان اور گنجا کے صوبوں میں آذریوں کے 200 گاﺅں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ شوشہ، زنگی زور اور جبریل کے اضلاع میں 75 گاﺅں تباہ کئے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب پوری اسلامی دنیا طاغوتی طاقتوں کے قبضے میں تھی اس لئے بین الاقوامی پیمانے پر ان واقعات کو کسی مغربی یا روسی تاریخ دان نے ضبط تحریر میں لانے کی کوشش نہیں کی لیکن ان واقعات پر ایم ایس اردبادی کی کتاب BLOODY YEARS اور ایم ایم نواب کی کتاب ”آرمینین مسلم وار1905-06ئ“ بڑی جامع تحریریں ہیں۔ یہ کتابیں اس دور کی میڈیا رپورٹوں اور عینی شاہدین کے مشاہدات و تجربات کی بناءپر تحریر کی گئی ہیں جو ان کے قابل بھروسہ اور حقائق کے مطابق ہونے کی سند ہے۔
1918-1920ء: آذربائیجان کے لئے مصائب کا ایک اور دور انہی دنوں شروع ہوا۔ ان کی نسلی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا کام خفیہ انداز میں پورے زور شور سے جاری رہا ۔ مثلاً 1831ءکے مقابلے میں 1916ءمیں آبادی میں اضافہ 40گنا ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اریوان کے پانچ اضلاع کے ہیں جبکہ اسی مدت میں آذربائیجان کی آبادی میں صرف 4.6 گنا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اریوان کے علاقے میں آرمینی لوگوں کی آباد کاری کی رفتار میں زیادہ تیزی برقرار رکھی گئی۔ ایک دوسری مثال کے مطابق 1886ءتا 1897ءآبادی میں کل اضافہ 40ہزار تھا۔ 1905ءمیں 1886ءکے مقابلے میں کل اضافہ 61 ہزار تھا۔ یہ اعداد و شمار زاروں کے دور میں آرمینیائی قوم پرستوں کی نسل پرستی پر مبنی عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ زاروں کے دور میں آرمینیائی اپنی ریاست کی تشکیل کے لئے کوشاں رہے۔ ان کی تعداد میں زبردست اضافہ اصل میں آذری لوگوں کے قتل عام اور گھروں سے جبری انخلاءکا نتیجہ رہا ہے۔

پہلی جنگِ عظیم کے اختتامی دنوں میں روسی انقلاب نے آرمینیائی نسل پرستوں کا کام آسان بنا دیا۔ انقلاب کی آڑ میں آرمینیائیوں نے بالشویکوں کا روپ دھار کر باکو سے آذربائیجانیوں کا صفایا کرنا شروع کردیا۔ ہزاروں بے گناہ آذری انقلاب دشمن قرار دے کر قتل کردیئے گئے۔ مساجد، ہسپتالوں، سکولوں اور رہائشی بستیوں کو مکینوں سمیت جلا دیا گیا۔ پورے باکو کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ ہزاروں لوگوں کو باکو، شیماخا، گوبا، کاراباخ، زنگی زور، نخ چیوان اور لنکوران کے علاقوں میں خصوصی طور پر موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ بیش بہا قیمتی قومی یادگاروں کو بھی برباد کیا۔ مارچ، اپریل 1918ءکے دو مہینوں میں آرمینیوں نے پچاس ہزار سے زیادہ آذریوں کو قتل کرکے ان کی جائیدادوں کو لوٹا۔ گھروں کو نذر آتش کیا۔ دس ہزار کو گھروں سے نکال دیا۔ صرف باکو میں 30 ہزار آذریوں کو قتل کیا گیا۔ شماخا میں 7ہزار آذری قتل ہوئے۔ گوبا ضلع میں 122 گاﺅں تباہ ہوئے۔ کارا باخ کے بالائی علاقوں میں 150 سے زیادہ اور زنگی زور میں 115 گاﺅں تباہ کئے گئے۔ ان تمام گاﺅں کی آبادی آذری مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ نہتے شہریوں کا بے دریغ قتل عام ہوا۔
اریوان کے صوبے میں 211آذری گاﺅں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ 92 گاﺅں کارز کے خود مختار علاقے میں تباہ کئے گئے۔ اریوان میں دائر کی گئی کئی اپیلوں میں سے ایک کے مطابق اس تاریخی شہر میں 88 گاﺅں تباہ ہوئے اور 1920 جلائے گئے۔ 2 نومبر 1919ءکے ایک روزنامے اشخار اور ASHKHADAVOR کے مطابق مختصراً سی مدت میں 131970 افراد کو آرمینیوں نے قتل کیا۔ 28 مئی 1918ءکو آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کی تشکیل کے نتیجے میں بھی آذری جمہوریہ کو اپنے ملک کے وسیع حصے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جنگ سے بچنے اور آرمینیا والوں سے صلح کی خاطر اریوان آرمینین لوگوں کے حوالے کردیا گیا۔
کوہ قاف میں 3 خود مختار جمہوری ریاستیں قائم ہونے کے بعد آرمینیا والوں نے اپنی ریاست کی تشکیل پر قناعت نہ کی اور وسیع تر آرمینیا کے قیام کے لئے جارجیا اور آذربائیجان کے علاقوں پر دعویٰ کردیا۔ جارجیا کے علاقوں اخال کاکی اور بورچالی اور آذربائیجان کے علاقوں کاراباخ، نخ چیوان اور الیزاوٹ پول صوبے مشرقی حصے کے آرمینیا کے دعوے کی بنیاد وہاں کی آرمینی اقلیت کو بنایا گیا حالانکہ آرمینیا کی کل آبادی 15,10000میں سے 795000 آرمینین، 575000آذری اور 140000 دیگر اقوام کے لوگ شامل تھے۔ آذربائیجان یا جارجیا نے اپنی اقلیت کے تحفظ کے لئے کوئی سرحدی دعویٰ نہ کیا لیکن نسل پرست آرمینی، آرمینیا میں صرف اور صرف آرمینی قوم کو دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے آرمینیا اور پڑوسی ممالک خاص طور پر آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں سے غیر آرمینیائی اقوام کا مکمل صفایا کرنا شروع کردیا۔ جارجیا کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش میں دسمبر 1918ءمیں دونوں ملکوں میں جنگ ہوئی۔ جارجیا کو تو عیسائی ملک ہونے کی وجہ سے آرمینیا کوئی خاص نقصان نہ پہنچا سکا لیکن آذربائیجان سے جنگ میں زبردست خون ریزی ہوئی۔ روسی حمایت اور مغربی ممالک کی ہمدردی کی وجہ سے آرمینیا نے آذربائیجان کے خلاف جنگی نوعیت کی کامیابیاں خالص چنگیزی انداز میں حاصل کیں۔ آذری افواج کے حوصلے پست کرنے کے لئے ان کے بچوں، عورتوں اور بزرگ افراد کا بے رحمی سے قتل عام کیا گیاتاکہ آذریوں پر آرمینیائی دہشت گردوں کی دھاک بٹھائی جاسکے۔ ان سفاکانہ کارروائیوں کو مغرب اور خاص طور پر روس کی عملی مدد حاصل تھی۔ دراصل یہ کوئی دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں بے گناہ نہتے لوگوں کی نسل کشی کی مہم تھی۔ اس طرح کی بار بار کی جارحانہ مہمات کے نتیجے میں آذریوں کی آبادی میں تشویشناک حد تک کمی ہوچکی تھی۔
1918ءتا 1920ءآرمینیا میں بسنے والے کل 575000 افراد میں سے 565000 قتل کر دیئے گئے یا پھر انہیں گھروں سے جبراً بے دخل کردیا گیا۔ 1920ءکے بعد ترکوں کی سوویت آرمینیا میں کل آبادی دس ہزار سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ 1922میں مہاجرین کی واپسی کے نتیجے میں آذربائیجانیوں کی تعداد 72,596 ہوگئی۔ اپریل 1920ءمیں ماورائے کاکیشیا (کوہ قاف) ریاستوں نے سوویت یونین کے ابھرتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے طفلس میں کانفرنس طلب کی۔ آرمینیا نے اس کانفرنس میں کہا کہ وہ صرف ایروان صوبے پر اکتفا نہیں کریگا اور اپنے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت تعاون سے مکمل انکار کردیا۔ اسی سال آرمینیا کی آذربائیجان کے علاقوں میں مداخلت اور چھاپہ مار کارروائیاں جن میں پُرامن لوگوں پر شب خون مارا جاتا تھا یہ سرگرمیاں دراصل یریوان اور ماسکو کے درمیان کاکیشیا میں سوویت اقتدار اعلیٰ قائم کرنے کی سازش کا حصہ تھیں۔ آرمینین زاروں کے دور سے روسیوں کے لئے کام کررہے تھے۔ بدلتے حالات میں بھی انہوں نے علاقائی یا پڑوسی ممالک کے بجائے روسیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ روسیوں نے بھی جواباً آرمینینز کی تمام قوانین اور اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مدد کی۔ اسی قوت کی پشت پناہی نے آرمینیا کو تمام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی دعوت دی۔ آرمینیا نے سوویت یونین کے دور سے روسی مدد کی بناءپر آذربائیجان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا عمل جاری رکھا۔ 1945ءمیں آرمینیا نے کاراباخ کو آرمینیا میں شامل کرنے کی کوشش کی جس کا جواز اقتصادی تعلقات بیان کیا گیا لیکن آرمینیا کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
1948ءتا 1953ء: سوویت دور میں آرمینیا نے توسیع پسندی کی مہم جاری رکھی۔ 1943ءمیں تہران کانفرنس کے موقع پر بیرون ملک رہنے والے آرمینیائی باشندوں نے سوویت وزیر خارجہ وی مولوٹوف سے درخواست کی ایران میں رہنے والے آرمینیائی باشندوں کو آرمینیا میں آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ جوزف اسٹالن کی منظوری کے بعد آرمینیائی آبادی ایران سے آرمینیا منتقل ہونا شروع ہوئی اور آرمینیا میں آباد آذربائیجانی باشندوں کو ان کے گھروں سے جبراً نکالنے کی پالیسی بھی زور پکڑ گئی۔ 1941-1945ءکی جنگ کے بعد امریکہ سے آرمینین برادری نے آرمینیا میں واپس آنا شروع کیا۔ 1946ءمیں شام، یونان، لبنان، ایران، بلغاریہ اور رومانیہ سے 50,900 آرمینین آرمینیا لاکر بسائے گئے۔ 1947ءمیں 35400 آرمینین افراد فلسطین، شام، فرانس، شمالی امریکہ، یونان، مصر، عراق اور لبنان سے آرمینیا لاکر بسائے گئے۔ 1947ءمیں آرمینین سی سی سی پی سیکرٹری جی ارت یونوو نے ماسکو سے آرمینیا کے مہاجرین کی آباد کاری میں مشکلات کا گلہ کیا اور تجویز دی کہ آرمینیا میں مقیم آذری باشندوں کو آذربائیجان کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں منتقل کردیا جائے تاکہ وہاں پر مزدوروں کی قلت کو دور کیا جاسکے۔ جوزف اسٹالن نے اس تجویز کی حمایت کی اور آرمینیا کے آذری باشندوں کو وہاں سے نکال کر آذربائیجان کے نشیبی علاقوں میں دھکیل دیا گیا۔ یہ ہجرت سوویت یونین کے انقلابی لیڈر جوزف اسٹالن کے حکم پر ہوئی۔ اس جبری منتقلی میں لاکھوں آذری باشندوں کو اپنے قدیم آبائی علاقوں سے بے دخل کرکے ویران علاقوں میں پھینک دیا گیا۔ ان لوگوں کو جہاں جہاں آباد ہونے کے لئے کہا گیا وہاں ضروریات زندگی کی سہولیات سرے سے ناپید تھیں۔ سوویت اقتدار کے اسٹالن کے دور میں جبراً انخلاءکی پالیسی دراصل نسل کشی کی حکومتی سطح پر اختیار کی جانے والے پالیسی تھی اور روسی بالشویکوں کے ظلم کا شکار بننے والوں میں بھاری اکثریت ترک مسلمانوں کی تھی۔ آرمینیا نے آذری باشندوں کو نقل مکانی کرانے کا مقصد آرمینیائی باشندوں کی آباد کاری بیان کیا تھا لیکن 1948ءمیں خالی کرائی گئی آذری بستیوں میں سے 476 گاﺅں 1975ءمیں بھی خالی ویران پڑے تھے۔ 1990ءمیں آرمینین قوم پرستوں نے 11 نومبر 1990ءکو ”روزنامہ دی وائس آف آرمینیا“ میں تسلیم کیا کہ آذری باشندوں سے آرمینین مہاجرین کو آباد کرنے کے لئے خالی کرائی گئی املاک خالی پڑی ہیں اور ان میں آرمینیائی مہاجروں کو آباد نہیں کیا گیا۔
ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آرمینیا کے قائدین حیلوں بہانوں اور سازشوں سے آرمینیا کو یک قومی اور نسلی ریاست بنانے کے منصوبے پر کاربند تھے۔ آرمینیائی لوگوں کی نسل پرستی کی مہم صدیوں قدیم تاریخ رکھتی ہے جس پر وہ ثابت قدمی سے عمل پیرا ہیں۔ جوزف اسٹالن کی موت کے بعد زبردستی ملک بدری کی مہم کا قریباً خاتمہ ہو گیا جو لوگ نئی جگہوں پر سیٹ نہ ہوسکے تھے وہ واپس اپنے علاقوں کو لوٹے جہاں ان کو نئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں تعصب کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے گھروں اور املاک پر قابض افراد نے قبضہ چھوڑنے سے انکار کردیا۔ آذربائیجانیوں پر مقدمات قائم کئے گئے۔ ان کی واپسی نے آرمینیائی لوگوں کو بے چین کردیا۔ آذریوں کے خلاف نفرت کی نئی مہم شروع ہو گئی۔ ان کے تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے اور ان کو اپنی آذری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا۔ آذری عوام پر آرمینیائی عہدیداران تعینات ہو گئے۔ آذری آبادیوں کی ضروریات کو نظر انداز کرکے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں آذربائیجان کے خلاف جذبات کی نئی لہر آئی۔ چنانچہ نئے سرحدی دعوے شروع ہوگئے۔ آرمینیا سے آذری آبادی کا انخلاءاور بیدخلی کے عمل کے ساتھ کاراباخ کا محاصرہ کرلیاگیا۔ 1988ءسے شروع ہونے والی تازہ مہم میں آذربائیجانیوں کی آرمینیوں کے ہاتھوں پٹائی، تشدد، قتل اور دیہاتیوں کے قتل عام کے واقعات عام ہو گئے۔ گوکرک میں 70 افراد قتل ہوئے جن میں 21 عورتیں اور 6 بچے تھے۔ ضلع واڈانِس میں چالیس افراد کو قتل کرکے یریوان، ماسس، کالی نینو، کدجاران، کافان، کیروووکان، گورس، سسیان، اماسیا اور ال اوردی کے قدیم رہائشی آذربائیجانیوں کو بیدخل کرکے آذربائیجان میں دھکیل دیا گیا۔ 1905ءتا 1920ءکی تاریخ دہرائی گئی۔ عورتیں، مرد، بوڑھے اور بچے سردی میں ٹھٹھرتے برف پوش جنگلات اور پہاڑوں سے گزر کر آذربائیجان پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ دوسری جانب بھی 1948ءتا 1953ءکی پالیسی دہرائی گئی۔ ہائی کمان کے حکم سے مہاجرین کو کاراباخ میں بسنے کی اجازت نہ دی گئی جس کی وجہ سے انہیں ٹینٹوں میں رہائش اختیار کرنی پڑی۔

8 اگست 1991ءمیں آرمینیا میں بچے آخری آذربائیجانی گاﺅں کے مکینوں کو بے دخل کرنے کے بعد آرمینیا دشنکوں کے نظریے کے مطابق واحد قومیت کا خالصتاً آرمینیائی ملک بن گیا۔ دشنکوں کا نعرہ تھا ”آرمینیا بغیر آذربائیجانیوں کے“ ۔ یہ آخری گاﺅں ”نوویدی“ تھا جو 18 فروری 1929ءکو ٹرانس کاکیشین فیڈریشن کے حکم نامے کے تحت آرمینیا میں شامل کیا گیا تھا۔آرمینیا کی آذربائیجان کے خلاف جارحیت کے باعث 1988ءکے بعد آذربائیجان کے مقبوضہ شہر اور بستیاں کھنڈرات میں تبدیل کردی گئیں۔ دس ہزار سے زیادہ آذربائیجانی شہید کر دیئے گئے اور دس لاکھ سے زیادہ آذری اپنے ہی ملک میں بے گھر مہاجرین بن گئے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں آرمینیا نے آذربائیجان کے 20 فیصد علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔ خوجالے میں آذربائیجانیوں کی نسل کشی اور جنوری 1990ءکی سیاہ تاریخ جب روسیوں نے باکو کے پُرامن شہریوں پر بلاوجہ ظلم کی انتہاءکردی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق روسی سپاہیوں میں آرمینین ریزرو فوجی بھی سویلین آذربائیجانیوں کے قتل عام میں مصروف رہے۔ یہ واقعات دشنکوں کی انیسویں اور بیسویں صدی میں اختیار کی گئی نسل پرستی پر مبنی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ آرمینیا اب بھی نخ چیوان کو آذربائیجان کی مرکزی سرزمین سے علیحدہ کرکے اسے ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ آرمینیا والوں نے مغرب کی مدد سے دنیا بھر میں مہم چلا رکھی ہے کہ دنیا تسلیم کرے کہ آرمینیائی قوم کی نسل کشی (عثمانی ترکوں کے ہاتھوں) ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ مظلوم بننے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف خود آذربائیجانیوں کی نسل کشی گزشتہ کئی صدیوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح آرمینین اپنے مظالم اور غیر قانونی اقدامات کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لئے اپنی مظلومیت کا بے بنیاد تذکرہ کررہے ہیں۔ وہ بزعم خویش سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس طرح اکیسویں صدی میں بھی اپنی مہم کو کامیابی سے جاری رکھ سکیں گے حالانکہ اب دنیا بہت بدل چکی ہے۔
1918ءمیں آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کے قیام کے موقع پر مارچ کے واقعات کو پہلی دفعہ سنجیدگی سے مرکزی توجہ حاصل ہوئی۔ 15 جون 1918ءمیں وزراءکی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے لئے کہا گیا۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں اریوان صوبے اور شیماخا میں آرمینیوں کی درندگی کو بے نقاب کیا۔ اس پروگرام کے مطابق دنیا کو آرمینیوں کے مظالم سے آگاہ کرنا تھا۔ آذربائیجان کی جمہوریہ نے 1919ءاور 1920ءمیں 31 مارچ کا دن قومی سطح پر سوگ منا کر گزارا تاکہ دنیا کو 31 مارچ کے حوالے سے آرمینیا والوں کے کردار سے آگاہ کیا جاسکے۔ بدقسمتی سے جمہوریہ کے روس کے قبضے میں چلے جانے سے سارے کا سارا پروگرام ختم ہو گیا۔ سوویت یونین کے تحلیل ہونے پر آذربائیجان نے آزاد ہو کر اپنی سابق آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک پھر سے بحال کرلی ہے۔ حکومتِ آذربائیجان نسل کشی کے واقعات کا سیاسی تجزیہ کرکے اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے۔ 26 مارچ 1998ءکو جمہوریہ آذربائیجان کے صدر حیدر علی یوو نے اپنے صدارتی حکم نامے میں مارچ 1918ءکے واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے سوگ کا دن قرار دیا۔ ان کا حکم نامہ آرمینیوں کی آذربائیجانیوں کے خلاف بربریت کی 80ویں برسی کے موقع پر جاری ہوا۔ صدر محترم کا یہ حکم آنے والی اور موجودہ نسلوں کے لئے ایک اہم ترین ڈاکومنٹ کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ ان واقعات کو ہمیشہ ذہن نشین رکھا جائے۔ ساری دنیا کو ان واقعات کے سیاسی اور قانونی پہلوﺅں سے آگاہ کیا جائے اور ان کے دہرائے جانے کی صورت میں بھاری نتائج کے امکانات کو پیش کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*