Home » اردو » آذربائیجان کی خاتون ِ اول محترمہ مہربانعلی اور حیدر علی یو فائونڈیشن کا آذربائیجان سے باہرپہلا منصوبہ
آذربائیجان کی  خاتون ِ اول محترمہ مہربانعلی اور  حیدر علی یو فائونڈیشن کا آذربائیجان سے باہرپہلا منصوبہ

آذربائیجان کی خاتون ِ اول محترمہ مہربانعلی اور حیدر علی یو فائونڈیشن کا آذربائیجان سے باہرپہلا منصوبہ

راجہ عامر محمود بھٹی


گزشتہ چند برسوں سے غیر سرکاری اداروں (NGO’s) کی سرگرمیوں میں بہت تیزی دیکھنے میں آئی۔ حکومت آذربائیجان ایسی غیر سرکاری تنظیموں کی بہت حوصلہ افزائی کرتی ہے جو صحت مند تعمیری سرگرمیوں میں شامل ہوتی ہیں۔ آذربائیجان میں قریباً 1500 این جی اوز کام کررہی ہیں اور اب ان کی سرگرمیوں کا دائرہ کافی وسیع ہوگیا ہے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں اب روز مرہ زندگی کے بہت سے معاشرتی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ حیدر علی فائونڈیشن ان تنظیموں میں سرفہرست ہے جس کی سربراہ خاتون اول محترمہ مہربان علی یووا ہیں۔ یہ تنظیم ایک غیر سرکاری و غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کے قیام کا مقصد مرحوم بانی صدر حیدر علی یو کے خیالات اور ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ حیدر علی فائونڈیشن کا مختار کل صدر جمہوریہ آذربائیجان ہوتاہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا عہدہ صدر کے دیے ہوئے اختیارات کے اندر رہ کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہے۔ ماہرین کی ایک جماعت (کونسل) کا مقصد تنظیم کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا ہوتا ہے۔ ایکسپرٹ کونسل یعنی ماہرین کی جماعت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ ماہرین نئے تصورات تخلیق کرتے ہیں اور صدر کے سامنے حساب کتاب اور مختلف رپورٹس پیش کرتے ہیں۔
حیدر علی یو فائونڈیشن آذربائیجان کی تہذیب و ثقافت کو بیرون ملک متعارف کرانے میں سرگرم کردار ادا کررہی ہے۔ تنظیم آذربائیجان کی مختلف میدانوں میں پیش رفت کو بھی دنیا کے سامنے لا رہی ہے۔ اپنی دیسی ثفاقت اور تہذیب و تمدن کو دنیا میں روشناس کرانے کے لیے تنظیم   نے روائتی طائفوں کے بہت سے بیرونی دوروں کا اہتمام کیا۔ ان دوروں میں لوک رقص کے فنکاروں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس کے علاوہ بہت سے یورپی ممالک کے دارالحکومتوں میں نمائشوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔ تنظیم فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلباء کی بھرپور مدد کرتی ہے۔ تنظیم سکولوں، ہسپتالوں اور عوامی سہولیات کی دیگر عمارات کے لیے رقوم فراہم کرتی ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں سکولوں میں کمپیوٹر فراہم کرتی ہے اور مراکز صحت میں تھیلیسیمیا کے علاج اور روک تھام کے لیے بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ حیدر علی یو فائونڈیشن گورنمنٹ سے ہٹ کر آذری عوام کی خدمت میں دن رات کوشاں ہے۔ لوگوں کو زندگی کی آسائشیں فراہم کرنا تنظیم کا اہم مقصد ہے۔ خاتون ِ اول محترمہ مہربان علی کو انکی ادب شاعری و روایتی موسیقی کی ترقی اور تنظیم  کے مقاصد سے لگائو کی بنا ء پر 2004ء میں یونیسکوکا خیرسگالی سفیرمقررکیا گیا ۔ آپ تربیت یافتہ فزیشن ہیں اور 1995ء سے فائونڈیشن کے ذریعے آذربائیجان کی ثقافتی دولت کو محفوظ کرنے اور اسکی ترویج کے لیے مختلف سطحوں پر کوشاں ہیں ۔ آپ نے آذربائیجان کی روائتی موسیقی کوبین الاقوامی سطح پر اجا گر کرنے کے لیے باکو مےMUGHAM CENTREقائم کیا ہے اور آپ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ۔
پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دوستی اور اخوت کا مظاہر ہ دنیا نے8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں دیکھا جب اس خوفناک زلزلے نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے وسیع وعریض علاقے کو اپنی  تباہ کن لپیٹ میں لے لیا اور لوگوں کے جان و مال کو زبردست نقصان پہنچا۔ 8اکتوبر 2005ء کے اس زلزلے کا دورانیہ 6منٹ اور آٹھ سیکنڈ تھاجبکہ ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.6ریکارڈ کی گئی تھی ۔ 38ہزار مربع کلو میٹر رقبہ اس زلزلے کی لپیٹ میں آیا تھا ۔ 70,000سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں۔سیکڑوں سکول و کالج بھی تباہ ہوئے جن کے ملبے تلے ہزاروں طلباء و طالبات دفن ہو کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ بجلی، پانی، گیس اور ہسپتالوں کا نظام بالکل تباہ ہو گیااور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ المیہ سونامی سے کئی گنا بڑا تھاکیونکہ سونامی میں تباہی کی لہر کے بعد حالات تعمیر نو اور امدادی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر موزوں تھے لیکن یہاں پر صورت حال بالکل برعکس تھی ۔ حکومت پاکستان کو نہ تو اس سے قبل ایسی آفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور نہ ہی اس کے پاس اس آفت سے نپٹنے کے لیے ضروری سازو سامان اور مہارت حاصل تھی۔
ان بدترین اور نا مساعد حالات میںدنیا بھر کے ممالک بالخصوص مسلم ممالک نے مثبت رد عمل کا اظہار کیا جن میں آذربائیجان بھی سر فہرست ہے۔ پاکستان میں زلزلے کی اندوہناک خبر سنتے ہی پورے آذربائیجان میں دکھ اور غم کی لہر دوڑ گئی ۔ حکومت آذربائیجان اور عو   دونوں نے دکھ کی اس گھڑی میں پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے ۔ آذربائیجان نے صدر الہام علی یو کی رہنمائی میں زلزلے کے اگلے دن خصوصی طیارے میں ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان کے علاوہ چالیس ڈاکٹروں ، ریسکیو ٹیم اور عملے کی خصوصی امداد ی ٹیم پاکستان بھیجی جس نے زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بالاکوٹ میں امدادی سر گرمیاں شروع کیں۔آذربائیجان کی حکومت نے فوری طور پر حکومت پاکستان کو1.5 ملین ڈالر کی نقد امداد فراہم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں آذربائیجان کے لوگوں کا رد عمل قابل تعریف تھا انہوں نے اپنے طور پر اشیائے ضرورت اکٹھی کیں۔ اپنے پاکستانی بھائیوں کے لیے آذری بھائیوں کے دل ہمدردی اور ایثار سے سر شار تھے۔ زلزلے کے بعد پاکستان میں صدر پاکستان کی طرف سے بلائی گئی ڈونرز کانفرنس میں آذربائیجان کے فرسٹ ڈپٹی پرائم منسٹر یعقوب ایوبوونے شرکت کی۔
زلزلے میں جہاں بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی وہاں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آذربائیجان کی معروف تنظیم حیدر علی یو فائونڈیشن نے پاکستانی بچوں کے لیے ایک جدید قسم کا سکول بنانے کا فیصلہ کیا۔ایرا نے  جو کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے کاموں کی ذمہ دار ہے نے آذربائیجان کے منصوبے کے لیے راڑہ مظفرآبادمیں جگہ کا انتخاب کیا۔ عام حالات میں سکول کی تعمیر کا کام کوئی بڑا کارنامہ نہ ہوتا لیکن یہاں پر زمینی حقائق بہت مختلف تھے۔ ذرائع مواصلات مفقود تھے کیونکہ یہ علاقہ پہاڑی تھا۔ اس مشکل اور دشوار گزار علاقے میں جہاں سکول بننا تھا کام کی جگہ سڑک سے کم از کم آدھ کلو میٹر دور تھی اس صورت حال میں تعمیراتی سامان کا اصل جگہ پر پہچانا کسی کارنامے سے کم نہ تھا لیکن اس کام کو مکمل کرنے کا بیڑا ” حیدر علی یو فائونڈیشن ” نے اٹھایا جو کہ آذربائیجان کی ایک بڑی فلاحی تنظیم ہے۔


فائونڈیشن نے سب سے پہلے جائے تعمیر تک قریباً آدھ کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کی ۔ سڑک کی تعمیر کے بعد سکول کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ فاؤنڈیشن کی طرف سے اس منصوبے کا چنائو بذات خود بہت اہمیت کا حامل تھااور یہ منصوبہ لڑکیوں کے لیے ہائی سکول کی تعمیر تھا فائونڈیشن کو اس بات کا قوی احساس تھا کہ کسی بھی قوم کی تعمیر میں عورت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے جس کی گود میں تعمیری سبق لے کر پروان چڑھنے والا بچہ ہی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے ۔ اس لیے ضروری  ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس ”عورت” کو علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے ۔ سکول کی تعمیر کا کام 2007ء میں شروع ہوا اور صرف 6ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر لیا گیا۔ فائونڈیشن نے کام کو مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ لڑکیوں کے لیے تعمیر کردہ یہ سکول دو منزلہ ہے اور جدید سازو سامان سے آراستہ ایک جدید ترین سکول ہے۔ ایرا کے اس وقت کے چیئر مین سلیم الطاف نے آذربائیجان کے ممبر پارلیمنٹ علدر ابرا ہیموو کی زیر قیادت آذری وفد کے ساتھ سکول کا افتتاح 9 فروری 2008ء کو کیا ۔ مظفر آباد کے پاس تعمیر شدہ اس سکول پر سات لاکھ پچاس ہزارامریکی ڈالر خرچ آیا ہے اور یہ سکول تین بلاکس ، 10کلاس رومز، 2لیبارٹریوں، ایک لائبریری ، کمپیوٹر روم اور بڑے ہال کے علاوہ کئی شعبوں پر مشتمل ہے۔ ” حیدر علی یو فائو نڈیشن ” کا آذربائیجان سے باہر یہ پہلا منصوبہ تھا جسے فائونڈیشن کی پرُ عزم اور با صلاحیت انتظامیہ نے انتہائی کامیابی سے مکمل کیا۔ اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کا  سہرا فائونڈیشن کی صدر محترمہ مہربان علی کے سر جاتا ہے ۔ حیدر علی یو آذربائیجان کے عظیم بانی صدر،  قومی لیڈر اور ملک و قوم کے نجات دہندہ تھے ۔ اس لیے ان کے نام پر ”حیدر علی یو فائو نڈیشن” قائم کی گئی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*